صدیوں تک یہ کتاب گمشدہ سمجھی جاتی تھی اور صرف یونانی زبان میں اس کے کچھ ٹکڑے باقی رہ گئے تھے۔ لیکن 1773ء میں، ایک برطانوی سیاح جیمز بروس (James Bruce) نے ایتھوپیا (Ethiopia) سے اس کتاب کا مکمل نسخہ واپس لایا، جو اس ملک کی سرکاری بائبل کا حصہ تھی۔ اس کے بعد محققین نے اس پر گہری تحقیق شروع کی۔
While a complete, officially sanctioned Urdu Bible does not include it, independent Urdu translations exist. For instance, Idara Tehqiqaat recently published a comprehensive Urdu translation. Other versions and summaries are accessible via platforms like the Internet Archive and Scribd . book of enoch in urdu
تاہن، چوتھی صدی عیسوی کے بعد، چرچ کے بڑوں نے اس کتاب کو "غیر قانونی" (Non-canonical) قرار دے دیا۔ اس کی وجوہات میں شامل ہیں: independent Urdu translations exist. For instance
دنیا کی تاریخ کو علامتی خوابوں کی صورت میں پیش کرتی ہے۔ book of enoch in urdu
اس میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جنہوں نے زمین پر اتر کر انسانوں سے تعلقات قائم کیے، جس کی وجہ سے دنیا میں برائی پھیلی اور طوفانِ نوح آیا۔